لاہور (22 دسمبر 2022ء) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی صدر قاضی زاہد حسین نے کہا ہے کہ 23 دسمبر 2012ء کے روز قائد تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے پاکستان کے سیاسی جسم کو لاحق مرض اور اس کا علاج تجویز کرتے ہوئے ”سیاست نہیں ریاست بچاؤ“ کا قوم کو شعور دیا تھا اور انہوں نے انتخابی نظام کو آئین کے مطابق فنکشنل کرنے کا ایک مکمل لائحہ عمل بھی دیا تھا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی تجاویز نہ ماننے پر آج سب بند گلی میں کھڑے ہیں۔ جنوری 2013ء میں اس وقت کے حکمران انتخابی اصلاحات کا تحریری معاہدہ کرنے کے باوجود اصلاحات کرنے سے مکر گئے جس کا نتیجہ آج انتشار، تصادم، عدم استحکام، معاشی تباہی اور ادارہ جاتی تصادم کی صورت میں قوم کے سامنے ہے اور سب بند گلی میں کھڑے ہیں۔ آج بھی وقت ہے سیاست پر ریاست کو ترجیح دی جائے اور سیاسی و جمہوری جسم کو لاحق کرپشن اور دھاندلی زدہ انتخابی نظام کے کینسر سے بذریعہ سرجری نجات حاصل کی جائے۔
دریں اثناء پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ 23 دسمبر 2012ء کے عظیم الشان جلسہ اور جنوری 2013ء کے انتخابی اصلاحات کے لئے کئے گئے لانگ مارچ میں لاکھوں کی تعداد میں اس ملک کی پڑھی لکھی مڈل کلاس نے شرکت کی تھی اور اس متعفن نظام سے اپنی کراہت کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر 23 دسمبر 2012ء کے مینار پاکستان میں جمع لاکھوں عوام کے موڈ کا درست اندازہ لگا لیا جاتا تو آج پاکستان ڈیفالٹ کی بجائے ٹیک آف کی پوزیشن میں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ سیاستدانوں کی عینک سے پاکستان کو دیکھنے اور سمجھنے کی بجائے براہ راست عوام کی ترجیحات کو اولیت دی جائے۔



